وادی تیہ کے واقعات کا اعادہ

سورة الأعراف آیات ۱۶۳ـ۱۷۱

وَ سۡـَٔلۡہُمۡ عَنِ الۡقَرۡیَۃِ الَّتِیۡ کَانَتۡ حَاضِرَۃَ الۡبَحۡرِ ۘ اِذۡ یَعۡدُوۡنَ فِی السَّبۡتِ اِذۡ تَاۡتِیۡہِمۡ حِیۡتَانُہُمۡ یَوۡمَ سَبۡتِہِمۡ شُرَّعًا وَّ یَوۡمَ لَا یَسۡبِتُوۡنَ ۙ لَا تَاۡتِیۡہِمۡ ۚۛ کَذٰلِکَ ۚۛ نَبۡلُوۡہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ ﴿۱۶۳﴾

اور پوچھ ان سےحال اس بستی کا جو تھی دریا کے کنارے [۲۰۰] جب حد سے بڑھنے لگے ہفتہ کے حکم میں جب آنے لگیں انکے پاس مچھلیاں ہفتہ کے دن پانی کے اوپر اور جس دن ہفتہ نہ ہو تو نہ آتی تھیں اس طرح ہم نے ان کو آزمایا اس لئے کہ وہ نافرمان تھے [۲۰۱]

Ask them about the town situated by the sea, when they used to transgress in the matter of Sabbath, when their fish came to them openly on the Sabbath, and did not come when they did not have Sabbath. In this way, We put them to a test, because they used to act sinfully.

وَ اِذۡ قَالَتۡ اُمَّۃٌ مِّنۡہُمۡ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡمَۨا ۙ اللّٰہُ مُہۡلِکُہُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُہُمۡ عَذَابًا شَدِیۡدًا ؕ قَالُوۡا مَعۡذِرَۃً اِلٰی رَبِّکُمۡ وَ لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۱۶۴﴾

اور جب بولا ان میں سے ایک فرقہ کیوں نصیحت کرتے ہو ان لوگوں کو جنکو اللہ چاہتا ہےکہ ہلاک کرے یا ان کو عذاب دے سخت [۲۰۲] وہ بولے الزام اتارنے کی غرض سے تمہارے رب کے آگے اور اسلئے کہ شاید وہ ڈریں [۲۰۳]

When a group of them said, “Why do you exhort a people whom Allah is going to destroy or chastise with a severe punishment?” They said, “To absolve ourselves before your Lord, and in order that they may fear Allah.”

فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُکِّرُوۡا بِہٖۤ اَنۡجَیۡنَا الَّذِیۡنَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ وَ اَخَذۡنَا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا بِعَذَابٍۭ بَئِیۡسٍۭ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ ﴿۱۶۵﴾

پھر جب وہ بھول گئے اس کو جو انکو سمجھایا تھا تو نجات دی ہم نے ان کو جو منع کرتے تھے برے کام سے اور پکڑا گنہگاروں کو برے عذاب میں بسبب ان کی نافرمانی کے [۲۰۴]

So, when they forgot the advice they were given, We saved those who used to forbid evil and seized those who transgressed with a bitter punishment, because they had been disobeying.

فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُہُوۡا عَنۡہُ قُلۡنَا لَہُمۡ کُوۡنُوۡا قِرَدَۃً خٰسِئِیۡنَ ﴿۱۶۶﴾

پھر جب بڑھنےلگےاس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے تو ہم نے حکم کیا کہ ہو جاؤ بندر ذلیل [۲۰۵]

When they persisted in doing what they were forbidden from, We said to them, “Become apes debased.”

وَ اِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّکَ لَیَبۡعَثَنَّ عَلَیۡہِمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ مَنۡ یَّسُوۡمُہُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ؕ اِنَّ رَبَّکَ لَسَرِیۡعُ الۡعِقَابِ ۚۖ وَ اِنَّہٗ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۶۷﴾

اور اس وقت کو یاد کرو جب خبر کر دی تھی تیرے رب نے کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو کہ دیا کرے ان کو برا عذاب [۲۰۶] بیشک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے [۲۰۷]

Recall) when your Lord declared that He would surely keep sending, till the Day of Judgment, those who inflict on them evil chastisement. Certainly, your Lord is swift in punishing, and certainly He is the Most-forgiving, Very Merciful.

وَ قَطَّعۡنٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ اُمَمًا ۚ مِنۡہُمُ الصّٰلِحُوۡنَ وَ مِنۡہُمۡ دُوۡنَ ذٰلِکَ ۫ وَ بَلَوۡنٰہُمۡ بِالۡحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۱۶۸﴾

اور متفرق کر دیا ہم نے ان کو ملک میں فرقے فرقے [۲۰۸] بعضے ان میں نیک اور بعضے اور طرح کے اور ہم نے انکی آزمائش کی خوبیوں میں او ربرائیوں میں تاکہ وہ پھر آئیں [۲۰۹]

We divided them on the earth as separate communities. Some of them were righteous, while some others were otherwise. We tested them with good and bad times, so that they might return.

فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ خَلۡفٌ وَّرِثُوا الۡکِتٰبَ یَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ ہٰذَا الۡاَدۡنٰی وَ یَقُوۡلُوۡنَ سَیُغۡفَرُ لَنَا ۚ وَ اِنۡ یَّاۡتِہِمۡ عَرَضٌ مِّثۡلُہٗ یَاۡخُذُوۡہُ ؕ اَلَمۡ یُؤۡخَذۡ عَلَیۡہِمۡ مِّیۡثَاقُ الۡکِتٰبِ اَنۡ لَّا یَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الۡحَقَّ وَ دَرَسُوۡا مَا فِیۡہِ ؕ وَ الدَّارُ الۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۶۹﴾

پھر ان کے پیچھے آئے ناخلف جو وارث بنے کتاب کے لے لیتے ہیں اسباب اس ادنیٰ زندگانی کا اور کہتے ہیں کہ ہم کو معاف ہو جائے گا اور اگر ایسا ہی اسباب انکے سامنے پھر آئے تو اسکو لے لیویں [۲۱۰] کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوا سچ کے اور انہوں نے پڑھا ہے جو کچھ اسمیں لکھا ہے اور آخرت کا گھر بہتر ہے ڈرنے والوں کے لئے کیا تم سمجھتے نہیں [۲۱۱]

Then, after them, came a generation that inherited the Book, opting for the mundane stuff of this world and saying, “We shall be forgiven.” But if there comes to them similar stuff, they would opt for it (again). Was not the covenant of the Book taken from them that they should not say anything but the truth about Allah? They learnt what it contained. Certainly, the Last Abode is better for those who fear Allah. Have you then, no sense?

وَ الَّذِیۡنَ یُمَسِّکُوۡنَ بِالۡکِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ؕ اِنَّا لَا نُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِیۡنَ ﴿۱۷۰﴾

اور جو لوگ خوب پکڑ رہے ہیں کتاب کو اور قائم رکھتے ہیں نماز کو بیشک ہم ضائع نہ کریں گے ثواب نیکی والوں کا [۲۱۲]

Those who hold fast to the Book and establish Salāh, We shall never let the reward of (such) righteous people to go to waste.

وَ اِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَہُمۡ کَاَنَّہٗ ظُلَّۃٌ وَّ ظَنُّوۡۤا اَنَّہٗ وَاقِعٌۢ بِہِمۡ ۚ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَیۡنٰکُمۡ بِقُوَّۃٍ وَّ اذۡکُرُوۡا مَا فِیۡہِ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۱﴾٪

اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر مثل سائبان کے اور ڈرے کہ وہ ان پر گرے گا ہم نے کہا پکڑو جو ہم نے تم کو دیا ہے زور سے اور یاد رکھو جو اس میں ہے تاکہ تم بچتے رہو [۲۱۳]

When We raised the mountain over them as though it were a canopy, and they thought it was falling upon them, (We said,) “Adhere firmly to what We have given you and remember what is therein, so that you may become God-fearing.”

[۲۰۰]وادی تیہ کے واقعات کا اعادہ:

یعنی اپنے زمانہ کے یہود سے بطور تنبیہ و توبیخ اس بستی میں رہنے والے یہود کا قصہ دریافت کیجئے جو داؤد علیہ السلام کے عہد میں پیش آیا۔ اکثر مفسرین کے نزدیک اس بستی سے شہر "ایلہ” مراد ہے جو بحر قلزم کے کنارے مدین اور طور کے درمیان واقع تھا۔ وہاں کےلوگ دریا کے قرب کی وجہ سے مچھلی کے شکار کی عادت رکھتے تھے
۔
[۲۰۱]سبت کے حکم سے یہود کی خلاف ورزی:

حق تعالیٰ نے یہود پر ہفتہ کے دن شکار کرنا حرام کیا تھا۔ باشندگان ایلہ کو عدول حکمی اور نافرمانی کی عادت تھی۔ خدا کی طرف سےسخت آزمائش ہونے لگی کہ ہفتہ کے دن دریا میں مچھلیوں کی بےحد کثرت ہوتی۔ جو سطح دریا کے اوپر تیرتی تھیں باقی دنوں میں غائب رہتیں۔ ان لوگوں سے صبر نہ ہو سکا۔ صریح حکم الہٰی کے خلاف حیلے کرنے لگے۔ دریا کا پانی کاٹ لائے جب ہفتہ کے دن مچھلیاں ان کے بنائے ہوئے حوض میں آ جاتیں تو نکلنے کا راستہ بند کر دیتے اور اگلے دن اتوار کو جا پکڑ لاتے۔ تاکہ ہفتہ کے دن شکار کرنا صادق نہ آئے۔ گویا اس حرکت سے معاذ اللہ خدا کو دھوکا دینا چاہتے تھے۔ آخر دنیا ہی میں اس کی سزا بھگتی کہ مسخ کر کے ذلیل بند بنا دیے گئے اس سے ظاہر ہوا کہ حیلہ سازی اور مکاری خدا کے آگے پیش نہیں جاتی
۔
[۲۰۲]ناصحین کا امر بالمعروف:

معلوم ہوتا ہے کہ جب انہوں نے حکم الہٰی کے خلاف حیلہ بازی شروع کی تو شہر کے باشندے کئ قسموں پر منقسم ہو گئے۔ جیسا کہ عمومًا ایسے حالات میں ہوا کرتا ہے۔ ایک وہ لوگ جنہوں نے اس حیلہ کی آڑ لے کر صریح حکم الہٰی کی خلاف ورزی کی۔ دوسرے نصیحت کرنے والے جو اخیر تک فہمائش اور امر بالمعروف میں مشغول رہے۔ تیسرے جنہوں نے ایک آدھ مرتبہ نصیحت کی پھر مایوس ہو کر اور ان کی سرکشی سے تھک کر چھوڑ دی۔ چوتھے وہ ہوں گے جو نہ اس عمل شنیع میں شریک ہوئے اور نہ منع کرنے کے لئے زبان کھولی بالکل علیحدہ اور خاموش رہے۔ موخرالذکر دو جماعتوں نے انتھک نصیحت کرنے والوں سے کہا ہو گا کہ ان متمردین کے ساتھ کیوں مغز زنی کر کے دماغ کھپاتے ہو جن سے کوئی توقع قبول حق کی نہیں۔ ان کی نسبت تو معلوم ہوتا ہے کہ دو باتوں میں سے ایک بات ضرورپیش آنے والی ہے۔ یا خدا ان کو بالکل تباہ و ہلاک کر دے اور یا کسی سخت ترین عذاب میں مبتلا کرے۔ کیونکہ یہ لوگ اب کسی نصیحت پر کان دھرنے والے نہیں
۔
[۲۰۳]یعنی شاید سمجھاتے رہنے سے کچھ ڈر جائیں اور اپنی حرکات شنیعہ سے باز آجائیں۔ ورنہ کم از کم ہم پروردگار کے سامنے عذر تو کر سکتے ہیں کہ خدایا ہم نے آخر دم تک نصیحت و فہمائش میں کوتاہی نہیں کی۔ یہ نہ مانے تو ہم پر اب کیا الزام ہے؟ گویا یہ ناصحین اول تو بالکلیہ مایوس نہ تھے دوسرے "عزیمت” پر عمل کر رہے تھے کہ مایوسی کے باوجود بھی ان کا تعاقب نہیں چھوڑتے تھے
۔
[۲۰۴]ناصحین کی نجات اور نافرمانوں پر عذاب:

یعنی جب ان نالائقوں نے تمام نصیحتوں کو بالکل ایسا بھلا دیا گویا سنا ہی نہیں تو ہم نے ناصحین کو بچا کر ظالمین کو سخت عذاب میں گرفتار کر دیا۔ الَّذِیۡنَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ کا عموم الفاظ دلالت کرتا ہے کہ جو نصیحت سے تھک کر لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡمَۨا الخ کہنے لگے اور جنہوں نے اخیر تک سلسلہ وعظ و نصیحت کا جاری رکھا ان دونوں کو نجات ملی۔ صرف ظالم پکڑے گئے۔ یہ ہی عکرمہ سے منقول ہے۔ اور ابن عباس نے ان کے فہم کی داد دی ہے۔ باقی جو لوگ اول سے آخر تک بالکل ساکت رہے خدا نے بھی ان کے ذکر سے سکوت فرمایا۔ ابن کثیرؒ نے خوب لکھا ہے "فنص علی نجاۃ الناھین وھلاک الظالمین وسکت عن الساکتین لان الجزاء من جنس العمل فھم لا یستحقون مد حًا فیمد حوا ولا ارتکبوا فیذموا”(ابن کثیر ص۵۷۶) ورجح بعد ذلک قول عکرمۃ واللہ اعلم
۔
[۲۰۵]نافرمانوں کا بندر بنا دیا جانا:

شاید پہلے کچھ اور عذاب آیا ہو گا جب بالکل حد سے گذر گئے تب ذلیل بندر بنائے گئے یا فَلَمَّا عَتَوْا الخ کو گذشتہ آیت فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُکِّرُوۡا بِہٖۤ الخ کی تفسیر قرار دیا جائے یعنی وہ "عذاب بئیس” یہ ہی بندر بنا دینا تھا۔ حضرت شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ "منع کرنے والوں نے شکار والوں سے ملنا چھوڑ دیا اور بیچ میں دیوار اٹھائی، ایک دن صبح کو اٹھے تو دوسروں کی آواز نہ سنی دیوار پر سے دیکھا ہر گھر میں بندر تھے۔ وہ آدمیوں کو پہچان کر اپنے قرابت والوں کے پاؤں پر سر رکھنے لگے اور رونے لگے۔ آخر برے حال سے تین دن میں مر گئے
۔
[۲۰۶]یہود کی دائمی محکومی:

یعنی خد اکی طرف سے پختہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ یہود اگر احکام تورات پر عمل کرنا چھوڑ دیں گے تو حق تعالیٰ قرب قیامت تک وقتًا فوقتًا ان پر ایسے لوگوں کو مسلط کرتا رہے گا جو ان کو برے عذاب میں مبتلا رکھیں۔ برا عذاب یہاں محکومانہ زندگی کو فرمایا۔ چنانچہ قوم یہود کبھی یونانی اور کلدانی بادشاہوں کے زیر حکومت رہی۔ کبھی "بخت نصر” وغیرہ کے شداید کا تختہ مشق بنی۔ آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک تک مجوسیوں کی باجگذار رہی۔ پھر مسلمان حکمرانوں کو ان پر مسلط فرما دیا۔ غرض اس وقت سے آج تک ان کو من حیث القوم عزت و آزادی کی زندگی نصیب نہیں ہوئی۔ بلکہ جہاں کہیں رہے اکثر ملوک و حکام کی طرف سے سخت ذلت اور خطرناک تکلیفیں اٹھاتے رہتے ۔ ان کا مال و دولت وغیرہ کوئی چیز اس غلامی و محکومیت کی لعنت سے نجات نہ دے سکی اور نہ قیامت تک دے سکے گی۔ آخر میں جب یہ لوگ دجال کے مددگار ہو کر نکلیں گے تو حضرت مسیح علیہ السلام کے مسلمان رفقاء کے ہاتھوں سے تہ تیغ کئے جائیں گے۔ کما ورد فی الحدیث
۔
[۲۰۷]یعنی جو شرارت سے باز نہ آئے بعض اوقات اس پر جلدی دنیا ہی میں عذاب بھیجنا شروع کر دیتا ہے اور کیسا ہی کٹر مجرم توبہ کر لے اور نادم ہو کر خدا کی طرف رجوع ہو تو اس کی بخشش و رحمت بھی بے پایاں ہے معاف کرتے ہوئے بھی دیر نہیں لگتی
۔
[۲۰۸]یہود کی فرقہ بازی:

یہود کی دولت برہم ہوئی تو آپس کی مخالفت سے ہر طرف نکل گئے کوئی اجتماعی قوت و شوکت نہ رہی اور مذہب مختلف پیدا ہوئے۔ یہ احوال اس امت کو عبرت کے لئے سنائے جا رہے ہیں
۔
[۲۰۹]یعنی کچھ افراد ان میں نیک نام بھی تھے۔ مگر اکثریت کافروں اور فاسقوں کی تھی۔ ان اکثروں کے لئے بھی ہم رجوع و انابت الی اللہ کے مواقع بہم پہنچاتے رہے۔ کبھی ان کو عیش و تنعم میں رکھا کبھی سختی اور تکلیف میں مبتلا کیا کہ ممکن ہے احسان مان کر یا سختیوں سے ڈر کر توبہ کریں اور خدا کی طرف رجوع ہوں
۔
[۲۱۰]یہود کی تحریف اور خوش فہمی:

یعنی اگلوں میں تو کچھ صالحین بھی تھے۔ پچھلے ایسے ناخلف ہوئے کہ جس کتاب (تورات شریف) کے وارث و حامل بنے تھے دنیا کا تھوڑا سا سامان لے کر اس کی آیات میں تحریف و کتمان کرنے لگے اور رشوتیں لے کر احکام تورات کے خلاف فیصلے دینے لگے۔ پھر اس پر ستم ظریفی دیکھئے کہ ایسی نالائق اور پاجیانہ حرکات کا ارتکاب کرتے ہوئے یہ عقیدہ اور دعویٰ رکھتے ہیں کہ ان باتوں سے ہم کو مضرت کا کچھ اندیشہ نہیں۔ ہم تو خدا کی اولاد اور اس کے محبوب ہیں۔ کچھ بھی کریں وہ ہماری بے اعتدالیوں سے ضرور درگذر کرے گا۔ اسی عقیدہ کی بناء پر تیار رہتے ہیں کہ آئندہ جب موقع ہو پھر رشوت لے کر اسی طرح کی بےایمانی کا اعادہ کریں۔ گویا بجائے اس کے کہ گذشتہ حرکات پر نادم ہوتے اور آیندہ کے لئے عزم رکھتے کہ ایسی حرکات کا اعادہ نہ کریں گے مگر اللہ سے مامون ہو کر ان ہی شرارتوں اور بے ایمانیوں کے اعادہ کا عزم رکھتے ہیں۔ اس سے زیادہ حماقت اور بےحیائی کیا ہوگی
۔
[۲۱۱]تورات کے بارے میں اللہ کا عہد:

یعنی تورات میں جو عہد لیا گیا تھا کہ "خدا کی طرف سچ کے سوا کسی چیز کی نسبت نہ کریں” کیا وہ انہیں معلوم نہیں جو اس کی کتاب او ر احکام میں قطع وبرید کر کے اس پر افتراء کرنے لگے حالانکہ "کتاب اللہ” (تورات) کو یہ لوگ پڑھتے پڑھاتے ہیں۔ پھر کیسے کہا جا سکتا ہےکہ اس کا مضمون انہیں معلوم نہیں یا یاد نہیں رہا۔ حقیقت وہ ہی ہے کہ دنیا کی فانی متاع کے عوض انہوں نے دین و ایمان بیچ ڈالا اور آخرت کی تکلیف و راحت سے آنکھیں بند کر لیں۔ اتنا نہ سمجھے کہ جو لوگ خدا سے ڈرتے اور تقویٰ کی راہ اختیار کرتے ہیں ان کے لئے آخرت کا گھر اور وہاں کا عیش و تنعم دنیا کی خوشحالی سے کہیں بہتر اور فائق ہے۔ کاش کہ اب بھی انہیں عقل آ جائے۔

[۲۱۲]یعنی توبہ اور اصلاح کا دروازہ اب بھی کھلا ہے جو لوگ شریروں کی راہ چھوڑ کر تورات کی اصلی ہدایات کو تھامے رہیں اور اسی کی ہدایات و پیشین گوئی کے موافق اس وقت قرآن کریم کا دامن مضبوط پکڑے رہیں اور خدا کی بندگی (نماز وغیرہ) کا حق ٹھیک ٹھیک ادا کریں۔ غرض اپنی اور دوسروں کی اصلاح پر متوجہ ہوں۔ خدا ان کی محنت ضائع نہ کرے گا وہ بلاشبہ اپنی محنت کا میٹھا پھل چکھیں گے
۔
[۲۱۳]رفع جبل کا واقعہ:

یعنی جو "میثاق الکتاب” (عہد و اقرار) انہیں یاد دلایا جا رہا ہے وہ ایسے اہتمام سے لیا گیا تھا کہ پہاڑ اٹھا کر ان کے سروں پر لٹکا دیا گیا اور کہا گیا کہ جو کچھ تم کو دیا جا رہا ہے (تورات وغیرہ) اسے پوری مضبوطی اور عزم سے تھامو اور جو نصیحتیں کی گئیں انہیں ہمیشہ یاد رکھو ۔ ورنہ بصورت انکار سمجھ لو کہ خدا تم پر یہ پہاڑ گرا کر ہلاک کر سکتا ہے۔ اس قدر اہتمام اور تخویف و تاکید سے جو قول و اقرار لیا گیا تھا افسوس ہے وہ بالکل فراموش کر دیا گیا۔ یہ "رفع جبل” کا قصہ سورہ بقرہ میں ربع پارہ الم کے بعد گذر چکا ہے ملاحظہ فرما لیا جائے۔

Advertisements
This entry was posted in سورة الفرقان. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s